References
* Incharg PTCL Traning Centre, Multan
1- https://en.wikipedia.org/wiki/Maratha_Empire
2- Quraan Majeed-31:2
3- As Above, 4:14
4- Faiza Butt- Urdu main Lisaani Tehqiq (Lahore: Magrabi Pakistan Urdu Akadmi, 2017)16-17.
’’ایک مخصوص لسانی گروہ میں پروردہ بچے کو زبان اور اس کی قواعد سکھائی نہیں جاتی بلکہ بچہ اپنے ماحول میں مستعمل زبان کا اکتساب فطری انداز سے خود بہ خود کرتا ہے۔ اِس عمل کے دوران میں ہر بچہ اپنی گرامر آپ خود تشکیل دیتا ہے۔ یہ قواعد بالغ افراد کے قواعدِ زبان سے مختلف ہوتے ہیں۔ زبان کے مروجہ قواعدی نظام کے ما تحت ہونے تک بچے کی زبان بہ تدریج ارتقائی مراحل طے کرتی ہے۔ علاوہ ازیں لسانی اعتبار سے مخلوط ماحول میں اکتسابِ زبان کرنے کی وجہ سے بچے کی زبان مروجہ مخصوص زبان کے مترادف نہیں ہوتی۔ صوتی، قواعدی اور لغوی سطح پر بچے کی زبان متعدد مگر لطیف انحرافات ظاہر کرتی ہے جو بعد ازاں نسل در نسل پروان چڑھتے ہیں اور انحرافِ زبان کا سبب بنتے ہیں۔‘‘
5- Ahmad Khan, SirSyed- Asaar-ul-Sanadeed "Jild-I," Muratab: Khaleeq Anjam (Delhi: Urdu Akaadmi, 1992)370-371.
6- Faiza Butt- Urdu main Lisaani Tehqiq, 126.
7- Haqqi, Sahn-ul-Haq- Lisaani Ltaeif-w-Masaeil (Islamabad: Muqtadra Qaumi Zuban, 1992)118.
8- Interview: Punjab University Oriental College, 17 October 2002
9- Sherani, Hafiz Mehmood- Punjab main Urdu (Islamabad: Muqtadra Qaumi Zuban, 1988)44.
-10 1857ء کے ہنگامے کے بعد ہندوستان میں ایک تعطل پیدا ہوگیا تھا، جسے دور کرنے اور زندگی کو ازسرِ نو متحرک کرنے کے لیے تاجِ برطانیہ کے ایماء پر مختلف صوبوں اور شہروں میں علمی و ادبی سوسائٹیاں قائم کی گئیں۔ سب سے پہلے بمبئی، بنارس، لکھنؤ، شاہ جہاں پور، بریلی اور کلکتہ میں ادبی انجمنیں قائم ہوئیں۔ ایسی ہی ایک انجمن لاہور میں 21/ جنوری 1865ء کو قائم کی گئی جس کا پور ا نام انجمنِ اشاعتِ مطالبِ مفیدہ پنجاب تھا جو بعد میں انجمنِ پنجاب کے نام سے مشہور ہوئی۔ لاہور والی انجمن کے قیام میں ڈاکٹر لائٹنر (Gottlieb Wilhelm Leitner) نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
11- Chohan, Safwam Muhammad- Urdu ky Naey Eham Aur Bunyadi Alfaz (Lahore: Magrabi Pakistan Urdu Akadmi, 2011)8.
12: سر سید نے اِن تینوں مسودوں کے تیار کرنے کے سوا اور اکثر موقعوں پر جب تک کہ وہ کونسل میں ممبر رہے، غیر معمولی لیاقت ظاہر کی ہے۔ باوجود انگریزی نہ جاننے کے ہر ایک اہم معاملہ پر جو کونسل میں پیش ہوتا تھا وہ گفتگو کرتے تھے اور اِس لیے اُن کو تمام کاغذات جو اُس معاملہ سے متعلق اور بالکل انگریزی میں ہوتے تھے، سمجھنے پڑتے تھے، اور اِس طرح کافی اطلاع حاصل کرنے کے بعد وہ کونسل میں اسپیچ کرتے تھے۔ اکثر چھوٹی چھوٹی اسپیچیں وہ اوّل خود اردو میں لکھ کر اُن کا انگریزی میں ترجمہ کراتے تھے اور پھر انگریزی الفاظ کو فارسی حرفوں میں لکھ کر خود کونسل میں اسپیچ دیتے تھے؛ اور بڑی بڑی اسپیچیں جو وہ تیار کرکے لے جاتے تھے اُن کو اکثر کونسل کا سیکرٹری پڑھ کر سناتا تھا۔ اُن کی ایک اسپیچ پر جو فارسی حرفوں میں لکھ کر دی تھی، لارڈ لٹن نے بڑا تعجب ظاہر کیا تھا۔ سر سید کہتے تھے کہ ’’جب میں اجلاس ختم ہونے کے بعد کونسل کے ہال سے اپنے کمرے کی طرف چلا تو لارڈ لٹن بھی پیچھے پیچھے چلے آئے اور مہربانی سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے کہ میں نے ایسی قابلانہ اسپیچ کبھی نہیں سنی تھی۔‘‘ یہ اسپیچ غالبًا مسودۂ قانونِ مزارعانِ دکن پر تھی جس کا انتخاب کرنل گراہم نے سر سید کی لائف میں چھاپ دیا ہے۔ (حیاتِ جاوید: 229-230)
13- Ahsan Ullah- www.rekhta.org/couplets
14- Masood Hussain Khan- "Urdu Sootiyat ka Khaka", Mashmoola: Muqadmaat Shier-o-Zuban (Haiderabad: Department of Urdu, Usmania University, 1966)252.
Author(s):
Pakistan
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 42 |
| Issue: | 2 |
| Language: | eng |
| Id: | 63805e794a99e |
| Discipline: | Y |
| Published | October 06, 2022 |
Copyrights
| Punjab University |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.